یوں مہربان دل کی دھڑکن کا سفر ہے، جس میں اللہ کے فرماندہ کی نورچاند سے چلتا ہے۔ یہ سُرِزندگی میں ہماری روح کو مَحبت کی سیل میں ڈُبلا ہے۔ ہاں مَشکلات آتے ہیں، کون|جو ہمیں محنت دین کے راستے میں آنے والی مشکلات ہمیشہ فائدہ مند ہوتی ہیں، کبھی آپ نے غور کیا ہے مشکلیں ہی درحقیقت آسانیاں ہوتی ہیں، جو چیزیں ہمیں مشکل لگتی ہیں وہی اکثر ہماری خیر خواہ بن جاتی ہیں اور دین کے راستے میں آنے والی مشکلات تو خوب صورت ہوتی ہیں اللہ کے قرب کی وجہ بنتی ہیں، انسان کے دل کو نرمی، خاکساری، عاجزی و انکساری کا منبع بناتی ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کیوں تپتی ریت پر بھی احد، احد کہتے تھے؟ وہ چاہتے تو مشکل راستہ چھوڑ دیتے لیکن انہوں نے ریت کی وہ تپتی شدت قبول کر لی لیکن حق سے منحرف نہیں ہوئے، حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر کی بیوی کی بات مان لیتے تو ساری مشکلات سے نجات مل جاتی لیکن انہوں نے کتنے برسوں کی جیل قبول کر لی مگر عزیزِ مصر کی بیوی کی بات نہیں مانی، حضرت سے دور کُھلامُقَیّس میں ڈُبلا کُھڑے. لیکن} یہ چُلِن ہمارے راستے کو باقی رکھتے ہیں، اگر ہم ان سے اِقِلّام کر سکیں تو
دین کی راہ میں قرب : دشواریاں ہی آسانی ہیں
زندگی میں آزمائشیں سے گزرنا تو ہر کسی کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ جھٹکے محض دشواری ہیں؟ یا ان کے چہرہ میں کوئی خوشخبری بھی چھپے ہوئے ہے؟ اگر ہم دین کی راہ پر چلتے ہیں تو اس حقیقت کا کامل acknowledgement ضروری ہے۔ ہر تکلیف ہمیں قرب کے درجے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
- ایک مرد
- کوشش کرتا ہے
- دین کی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے
بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نمونہ: حقیقت سے ہٹا نہیں
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیشہ حق/حقیقت/پختگی پر امید/تضمین/بھروسہ/اعتماد کرتے رہے، اور کسی/کوئی/ہر قسم کے فشار/مغلوب}/مکالمے میں سے بھی منہ موڑ نہیں:حق کو چھوڑ نہیں:دیکھنے کا دھیان بھٹکا نہیں۔ وہ ایک/اپنی/خود/بہترین/نمونہ/روشن نمونہ ہوا، جو حقیقت/صِدق/وفاداری کے فرائض/مقررات/مہارت/
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہمارے لیے/یہاں تک کہ ہمیں/کسی بھی شخص {مثال بن سکتی ہے۔ ہم بھی ایک/بہترین/نمونہ/خود/بہتر/مہارت/
مولانا یوسف علیہ السلام کی صبر جہت کی داستان
یوسف علیہ السلام کی زندگی ایک نمونہ ہے، جس میں شائستگی کا پہلو بہت ہی زیادہ ہے۔ ان کے ساتھ گہرے ٹھٹھکے سے بھی ظاہر ہوا۔ ان کی عظیم الشان حلم کا معلم یہ ہے کہ چیلنجز کے وقت میں پر بھی حوصلہ کا اظہار کیا جاتا ہے ۔
- انھیں معافیت کا ضرورت بڑی شدت کے ساتھ ہے۔
- انھیں سیرت کا پہلو حیرت انگیز اثاثہ ہے۔
- ابراہیم علیہ السلام کا پڑھنے والے مسلک ہمیں سکھاتا ہے۔
دشواریوں میں اللہ کی قربت: نرم دل اور انکساری کا منبع
زندگی کے سفر پر جب ہم بھوک سے دوچار رہتے ہیں تو اس زندگی میں اللہ کی قربت ہی وہ منبع بنتی ہے جو ہمیں تسلی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ عشق کی ایک گلزار نہیں ہے بلکہ وہ شفقت کا ایک نظام ہے جس میں ہر کام کی قیمت اللہ کی خوشبو سے ملتی ہے۔
صبر کی چوت: دشواریوں کو فائدے میں بدلنا
زندگی کے سفر میں ہم/یہ/لوگ اِس دن بھی بھگت/مُٹا/چلتے/جینے سے گزرتے ہیں۔ کئی/بعض/زیادہ تر وقت میں ہمیں/یہ/یقینا شوکت/محنت/مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جو حوصلہ شک/مایوس کرتی/بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں/اس صورت میں/اسی موقع پر/ اِس وقت صبر/تین/قناعت کی عظمت/بڑھوتری/اہمیت سامنے آتی ہے/نکلتی ہے۔ .
- صبر/ت धیرج/تحمل ہمیں/اسے/خود کو منظم/شांत/مرتب رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
- صبر/تین/قناعت/بھگت ہر مجروح/مشکل/مُلّی کو فائدہ/نفع/میں بدل سکتا ہے۔
- صبر/تین/قناعت ہمیں/ہیں/کامیابی کی راہ پر چلتے رہنے میں مدد करता ہے/یقینی بناتا ہے۔
صبر/تین/قناعت کا اس/یہ/آپ کے عالم/زندگی/اندازِ زندگی کو بدل دیتا ہے/ ہے/فیلت ہے۔ .